
lafaz e ما ki aqsam لفظ ما کی اقسام لفظ ما
February 20, 2025
haikal sulemani history ہیکل سلیمانی
February 21, 2025رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ کے وقت || امام طحاوی ||

امام طحاوی نے “شرح معانی الآثار” میں ترک رفع یدین کے دلائل تفصیل سے ذکر کیے ہیں اور ان احادیث پر استدلال کیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو بیان کرتی ہیں۔
حدیثِ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
عربی متن:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:
“أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟” قَالَ: فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.
حوالہ:
(شرح معاني الآثار 1/219، حدیث 1043، سنن أبي داود: 748، سنن الترمذي: 257، سنن النسائي: 1028، مسند أحمد: 3677)
ترجمہ:
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟” پھر انہوں نے نماز پڑھی اور صرف پہلی مرتبہ (تکبیر تحریمہ میں) رفع یدین کیا۔
امام طحاوی کا تبصرہ:
امام طحاوی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو سب سے زیادہ جاننے والے صحابہ میں سے تھے، اور جب انہوں نے رفع یدین ترک کیا تو یہ دلیل ہے کہ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین چھوڑ دیا تھا۔
حدیثِ براء بن عازب رضی اللہ عنہ
عربی متن:
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:
“رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ”
حوالہ:
(شرح معاني الآثار 1/219، حدیث 1044، سنن أبي داود: 749، سنن النسائي: 1029، مسند أحمد: 18033)
ترجمہ:
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز کے شروع میں ہاتھ اٹھائے، پھر دوبارہ نہ اٹھائے۔
امام طحاوی کا استدلال:
یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف تکبیرِ تحریمہ میں رفع یدین کرتے تھے اور باقی مواقع پر نہیں۔
حدیثِ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
عربی متن:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:
“إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ”
حوالہ:
(شرح معاني الآثار 1/219، حدیث 1045، مجمع الزوائد: 2763، الطحاوی، شرح معاني الآثار: 1/219)
ترجمہ:
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز کے شروع میں (تکبیر تحریمہ میں) ہاتھ اٹھاتے تھے۔”
امام طحاوی کا تبصرہ:
یہ روایت صریح الفاظ میں ثابت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے یا اٹھتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
- حدیثِ حضرت علی رضی اللہ عنہ
عربی متن:
عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:”إِذَا كَبَّرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْفَعْ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ فِي أَوَّلِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَا يَعُدْ”
حوالہ:
(شرح معاني الآثار 1/219، حدیث 1046، سنن الدارقطني: 1116، الطحاوی، شرح معاني الآثار: 1/219)
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “جب تم میں سے کوئی نماز شروع کرے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھائے، پھر دوبارہ نہ اٹھائے۔”
امام طحاوی کی وضاحت:
یہ حدیث بھی رفع یدین کے ترک پر صریح دلیل ہے اور اس بات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ رفع یدین کا حکم بعد میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔
امام طحاوی کا فیصلہ:
عربی عبارت:
“فَهَؤُلَاءِ هُمْ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ هُمْ أَعْلَمُ النَّاسِ بِصَلَاتِهِ، وَقَدْ أَخْبَرُوا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا عِنْدَ الِافْتِتَاحِ، فَهُوَ النَّاسِخُ لِرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي غَيْرِهِ.”
ترجمہ:
“یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ ہیں جو آپ کی نماز کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، اور انہوں نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف افتتاحِ نماز میں رفع یدین کرتے تھے، لہٰذا یہی وہ حدیث ہے جو رفع یدین کو منسوخ قرار دیتی ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ کا موقف ترکِ رفع یدین کا ہے، اور انہوں نے اس پر مضبوط دلائل دیے۔
شرح معانی الآثار کی محدثین نے جو عظمت و شان بیان کی ہے اور امام طحاوی کی ثقاہت و جلالت علمی کا جو اعتراف کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے