
100صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسماۓ مبارکہ
December 11, 2024
Documentery about imam Malik bin Anas
January 26, 2025باغ فدک کے مسئلہ پر بہت سی کتابیں بھری پڑی ہیں اور بہت کلام ہمارے بڑے کرتے چلے آرہے ہیں لیکن حالیہ جناب علامہ اشرف آصف جلالی صاحب کے ایک بیان پر بہت سے لوگوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس بات کی سنگینی کو سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں اور جناب اشرف آصف جلالی صاحب کے جیسی علمی شخصیت کو بھی سب مانتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود کسی نے ان کی بات کا کوئی خاص معنی و مفہوم سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اس وجہ سے جن احباب کو جس طرح سمجھ پڑی انہوں اپنی ذہن و فراست سے کام لیتے ہوئے جناب محترم جناب علامہ اشرف آصف جلالی صاحب پر حکم لگائے ۔ اور معاملے کو کسی حتمی شکل میں ڈھالنے کی بجائے تمام اہلسنت میں ایک حجان بھرپا کردیا گیا ہے ۔ دین سیکھنے والے طالب علم تو طالب علم اساتذہ بھی انتشار ذہنی کا شکار ہوچکے ہیں العفو ۔کچھ شان صدیقی کو دیکھ کر بولنے ڈرتے ہیں تو کچھ شان امہ فاطمہ رضہ اللہ عنہا اب یہ معاملہ حل کیسے ہوتا کہ ایک عرصہ کے بعد کہ جب اس مسئلہ کو سب بھولنا شروع ہوئے ہی تھے کہ دوبارہ اسے موضوع بحث بنایا گیا اور عام عوام میں لاکر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اسے مسئلہ و بہران بنا دیا گیا ہے ۔ اسی سلسہ میں کوشش کرتے ہوئے ہم نے کچھ مواد اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس سے مبتدی طالب علم سے لیکر تمام شیوخ و اساتذہ و مفتیان اکرام ایک ہی جگہ پر تمام لوگوں کی گفتگو کو دیکھ سکیں اور پرکھ سکیں تاکہ مسئلہ کسی جانب جواب و حل کی طرف جائے ۔
مسئلہ خَطا یا مسئلہ اَنا
بڑوں کی خطائیں ہماری نیکیوں سے بھی زیادہ افضل ہیں
تین پہلوؤں سے مختصر گفتگو پیش نظر
پہلا پہلو :
گذشتہ چند سالوں میں جس مسئلہ کو ضرورت سے زیادہ زیر بحث لایا گیا وہ باغ فدک کے معاملہ میں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب کی ایک غالی رافضی کی مجلس شیعہ اور ایک غالی رافضیہ کی نجی ٹی وی چینل پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے متعلق سر عام ہرزہ سرائی ، زٹل اور لغو گوئی کا رد ِ بلیغ تھا، جوش خطابت میں ڈاکٹر اشرف جلالی صاحب نے سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا مسئلہ فدک پر مطالبہ کو سید مہر علی شاہ صاحب رحمہ اللہ کی کتاب کی عبارت کو تشریح کرتے ہوئے خطا سے تعبیر کیا ، بعد میں اس خطا سے مراد خطائے اجتہادی بتایا ساتھ یہ بھی کہا کہ آئندہ اس لفظ کو بھی نہیں بولا جائے گا ۔ جب قائل نے اپنے قول کی وضاحت کردی اور اس وضاحت پر کوئی شرعی گرفت تب بنے جب گستاخی کا پہلو نکلے ، جب قائل کا عقیدہ خطائے اجتہادی سے مراد اجرو ثواب ہے، اجتہاد میں اجر و ثواب کا قول کیا گستاخی ہے ؟ کیا اجتہاد کا قول کرنے والے صرف ڈاکٹر صاحب ہیں ؟ کیا باقی علماء جنہوں نے اجتہاد کا قول کیا بلکہ اس سے آگے جا کے سیدہ پاک رضی اللہ عنہا کے لیے لکھا کہ ان کو اس قضیہ میں ذرا سی غلط فہی ہوگئی تھی، کیا ایسے قائل کیخلاف بھی کوئی پروپوگینڈا کیا ؟ جی جناب قائل طاہر القادری صاحب خود ابھی حیات ہیں، ان سے رجوع تو دور کی بات ہے رجوع کا مطالبہ تک کیا ؟ اس فہرست میں اور بھی نام آتے ہیں مقصد اس مسئلہ کو طول نہیں ختم کرنا ہے۔ ویسے جن لوگوں کو ڈاکٹر صاحب پر گستاخی کا لیبل لگانے کا جنون ہے کیا ان کو وہ لوگ نظر کیوں نہیں آتے جو آئے روز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حرف تنقید بناتے ہیں، غالی رافضی شیعہ، شیعوں سے میل رکھ کر ان کی بولی بولنے والے ، صداقت فریدی جیسے قباش ، ظہور فیضی جیسے اوباش، خود معترضین کے اپنے اردگرد کتنے ایسے لوگ ہیں جو آئے روز صحابہ کرام پر جملے کستے ہیں لیکن مجال ہے کبھی غیرت کی رگ پھڑکی ہو،
میں یہ نہیں کہتا کہ ڈاکٹر صاحب سے اختلاف رکھنے والے سبھی ایسے ہیں کچھ مخلص بھی ہیں لیکن معترضین کی اکثریب ایسی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے کالے یاروں کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک بہانہ تلاش رہے تھے اب مل گیا تو اس بات کا پیچھا چھوڑیں گے تو خود بھی پٹنا شروع ہو جائیں گے اس لئے اپنا آپ بچائے رکھنے کیلئے اس مسئلہ کو اچھالنا ضروری ہے، اس پر ایک ہی ثبوت کافی ہے کہ خود یہ اور ان کے حلقہ میں آئے روز گستاخیاں ہوتی ہیں۔
دوسرا پہلو:
جب ڈاکٹر صاحب سے جوش خطابت میں ایسا لفظ نکل گیا جس کی بعد میں انہوں وضاحت دے دی، لیکن بعض مخلصین کا اس لفظ سے رجوع کا مطالبہ تھا ، اگر ڈاکٹر صاحب واضح اور کھلے الفاظ میں رجوع کر لیتے تو کیا ڈاکٹر صاحب کی علمی مقام میں کمی بیشی واقع ہو جانی تھی؟ اکابرین ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے لیکن ڈاکٹر صاحب نے کسی کی کوئی بات نہ سنی جوکہ دور اندیشی پر مبنی عمل نہ تھا ، اپنی اسی غلطی کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب مخالفین کے پروپوگینڈے کا شکار ہو گئے، اب ہو سکتا ہے کوئی یہ کہے کہ وضاحت کے بعد رجوع کی ضرورت کیوں ؟ رجوع کی ضرورت اس لئے تاکہ فتنے کا سدباب رجوع سے ہی ممکن تھا، یہ الفاظ قابل اعتراض نہ ہوتے تو وضاحت کی ضرورت بھی نہ ہوتی، اکابرین کو ساتھ بٹھا کر اتنا کہنا کہ جوش خطابت میں مطلقا خطا کا لفظ کہہ دیا جب کہ مراد اجتہاد کے اعتبار سے تھی اس لئے ان الفاظ سے رجوع کرتا ہوں آئندہ ایسے الفاظ سے گریز کروں گا، اکابرین کے مشورہ سے اس معاملہ میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنے الفاظ سے رجوع کرتا ہوں، ڈاکٹر صاحب کا یہاں جھک جانا انہیں بہت سی عزتوں سے نوازتا ، مولانا الیاس قادری صاحب نے جب بے خطا بے گناہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا نعرہ لگایا تو یہاں ان کا بے خطا کہنا خطائے اجتہادی کی طرف اشارہ تھا ، تاویل موجود تھی لیکن فتنہ کی سرکوبی کیلئے رجوع کرلیا۔ کبھی کبھی حالات کے حساب سے چلنا پڑتا ہے۔
تیسرا پہلو :
کسی بڑی ہستی کی طرف خطائے اجتہادی کی نسبت گوکہ گناہ نہیں لیکن معاملہ نیت کاہے، خطائے اجتہادی کا انتساب اگر دل میں بغض لئے کیا جائے تو واقعی ہی یہ قابل مزمت اور قابل مسترد ہے، یہ بات پیش نظر رہے کہ کسی بزرگ ہستی کی شان میں اگر کہے گئے الفاظ اگر فتنہ بن رہے ہوں خطا کی نسبت اپنی طرف کرنا زیادہ ادب اور حکمت کے قریب ہے، کیونکہ بڑوں کی خطائیں ہماری نیکیوں سے بہتر ہیں، اس پر امام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے مکتوب سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے جوکہ یقینا اس مسئلہ میں نفع بخش ہے ،
آپ رحمہ اللہ مکتوب نمبر 120میں فرماتے ہیں
” صحبت کے برابر کوئی چیز نہیں ہے، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول ﷺ کی صحبت کی وجہ سے ہی انبیاء علیہم السلام کے علاوہ تمام غیر انبیاء پر فضلیت حاصل ہے خواہ اویس قرنی ہوں یا عمر بن عبدالعزیز ہی کیوں نہ ہوں ، حالانکہ یہ دونو ں حضرات حضور اکرم ﷺ کی صحبت کے علاوہ درجات کی نہایت اور تمام کمالات کی غایت تک پہنچے ہوئے تھے، یہی وجہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خطا نبی کریم ﷺ کی صحبت ہی کی برکت کی وجہ سے ان دونو ں ( اویس قرنی اور عمر بن عبدالعزیز) کے صواب ( درست اور نیک کاموں) سے بہتر ہے۔ اور حضرت عمرو بن عاص کا سہو( غلطی یا لغزش) ان دونو ں کے صواب ( درست کام) سے افضل ہے۔ کیونکہ ان بزرگوں کا ایمان ، رسول ﷺ کی شرف زیارت ، فرشتہ کی حاضری اور وحی کے مشاہد کرنے اور معجزات دیکھنے کی وجہ سے شہودی ہو چکا تھا ، اور ان (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کے سوا کسی اور کو اس قسم کے کمالات جو تمام کمالات کے اصول ہیں نصیب نہیں ہوئے ، اور اگر اویس قرنی رحمہ اللہ کو معلوم ہوتا کہ صحبت کی فضیلت میں یہ خاصیت ہے تو ان کو صحبت سے کوئی چیز مانع نہ ہوتی اور وہ اس فضیلت کو ترجیح دیتے، وَ اللّٰہُ یَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ، اور اللہ اپنی رحمت کیلئے جس کو چاہتا ہے مخصوس کر لیتا ہے۔، ۔۔۔
بارِ الہا! اگرچہ تم نے ہم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں پیدا نہیں کیا مگر ہم کو بطفیل سید المرسلین ﷺ قیامت کے دن انہی کے زمرے میں محشور فرمائیو۔ والسلام “
امام ربانی کا کلام ختم ہوا، اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں راہ اعتدال کیساتھ ادب و احترام سے ایمان کیساتھ شرح صدر کیساتھ خاتمہ باالخیر فرمائے۔ آمین