
رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ کے وقت امام طحاوی rafa yadain hadees in urdu
February 20, 2025ہیکل سلیما نی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی
جو حضرت سلیمان علیہ اسلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے
تعمیر کروائ تھی تا کہ لوگ اس کی طرف منہ کر کے یا اس کے
اندر عبادت کریں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ہاں کسی بھی با قاعدہ ہیکل کا نہ کوئ وجود اور نہ اس کا کوئ تصور تھا – اس قوم کی بد ووُں والی خانہ بدوش زندگی تھی- ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا-اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ہوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کر کے عبادت کیا کرتے تھے- روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے “شمشاد کہتے ہیں –
اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ اسلام کے پاس بھیجا گیا تھا- یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ہوتا ہوا حضرت موسٰی علیہ اسلام کےتک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسٰی علیہ اسلام کا عصا من و سلوٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں-یہودی اس تابوت کی برکت سے ہر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگےرکھا کرتے اور اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے – جب حضرت داوُد علیہ اسلام کو بادشاہت عطا ھوئى تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدا محل تعمیر کروایا – ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کے میں خود تو محل میں رہتا ہوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ہوتا ہے- یہ بائیبل کی روایت ہے-
جیسے بائیبل میں ہے-
“بادشاہ نے کہا: ‘میں تو دیودار کی شاندار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ھوں،مگر خداوند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے-
(٢-سموئیل٢؛ ۴)
چناچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماہرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں نا ممکن ہےآپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ اسلام کو دے دیجئے چناچہ حضرت سلیمان نے(970ق م۔930ق م) نے اپنے دور حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا با قاعدہ آغاز کیا گیا آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی۔
اتنے بھاری اور اور بڑےپتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چناگیا تھا جن پر حضرت سلیمان علیہ اسلام کی حکومت تھی۔ ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ اسلام اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کر دی۔ یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہو گا ۔کہ حضرت سلیمان علیہ اسلام کی روح اللہ نے دوران عبادت ہی قبض کر لی لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہو گئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کر رہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہو چکا تھا۔ بہرحال یہ معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئ تھی۔
حضرت سلیمان علیہ اسلام کی وفات کے بعد اس کے تین حصے کر دئیے گئے تھے بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے اس کے اگلے حصے میں علماء جو کہ انبیاءکی اولاد میں سے ہوتے ان کی عبادت کی جگہ تھی اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔
وقت گزرتا رہا اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ہو تے رہے یہ قوم بد سے بدتر ہوتی رہی، یہ کسی بھی طرح اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہونے یا ان کو ترک کرنے کے لئیے تیار نہیں تھے یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ہو گیا۔
ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیا بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی حتی کہ ان کی شکلیں تبدیل کر کے بندر اور سُور تک بنائی گئیں لیکن یہ گنا ہوں سے باز نہ آئے تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی 576 ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا ،ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا تقریبًا” دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا شہر سے باہر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی جس کا نام تل ابیب رکھا گیا ۔70 سال تک ہیکل صفہ ہستی سے مٹا رہا ۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسے کہیں پھینک دیا کہا جاتا ہے ۔
اس حرکت کا عزاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کی سن 539 ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل(اعراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا ۔ سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کر کے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا چناچہ ہیکل کی (دوسری) تعمیر 537 ق۔ م میں شروع ہوئی۔ لیکن تعمیر کا کام سرانجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیا۔
لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاہتے ہیں۔ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباہی کا ذکر کرتے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی ہیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشسہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ہوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئیے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ہو گا۔ ہیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرنا چاہتا ہےاسے گرانا نہیں چاہتا۔
چناچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کوگرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کر کے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رہا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑاتھوڑا کر کے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رہا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ہوا اور یوں تیسری بار ہیروڈس کے ذریعے نیا ہیکل وجود میں آگیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسی کا ظہور ہوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیئے دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسے شان وشوقت عطا کرتا، حضرت عیسی علیہ اسلام کے مصلوب ہونے کا واقعہ پیش آیا ، آپ کے مصلوب ہونے کے 70 سال بعدایک بار پھر یہودیوں پر اللہ تعالی کا عزاب نازل ہوا اس بار اس عزاب کا نام ٹائٹس تھا۔
یہ رومی جرنیل بابل کے بادشا ہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوا اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہ غیغ کر دیا اس نے ہیروڈس کے بنائے ہوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور یہودیوں کو ہمیشہ کے لئیے یروشلم سے نکال باہر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ہو کررہ گئے۔ کموبیش اٹھارہ انیس سو سال بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک نا جائز بچے اسراءیل کو فلسطین میں جنم دے دیا اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک اسرائیل میں اکٹھے ہونے کی اجازت مل گئی لیکن یہ قوم اپنی ہزاروں سال پرانی گندی گندی فطرت سے باز نہ آئی یہ برطانیہ کی جنم دیئے ہوئے اسرائیل تک محدود نہ رہے ایک بار پھر ہمسایہ ممالک کے لئیے اپنی فطرت سے مجبور ہو کر مصیبت بننے لگے۔
(5)جون1967کو اس نےشام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا ۔ 1968میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ہو گئے اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ہزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی مسلمان ممالک کی بغیرتی اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے اب ان کا مشن جلد از جلد اسی ہیکل کی تعمیر ہے اور اس ہیکل میں تخت داوُد اور تابوت سکینہ کودوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا( یہودی زبان کا لفظ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔
وہ یہ کام انتہائی تیز رفتاری سے کر رہے ہیں اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔
آپ اندازہ کیجئیے یہودیوں کو جس بستی تل ابیب میں بخت نصر نی قیدی بنا کر رکھا تھا وہ اس کو آج تک نہیں بھولے،انہوں نے اسرائیل بنانے کے بعد اپنے ایک شہر کا نام تل ابیب رکھ لیا۔ جبکہ ہم مسلمان اس مسجد اقصی کو بھی بھول چکے ہیں جہاں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔
یہودی آج تک بار بار گرائے گئے ہیکل کو نہیں بھولتے حتی کہ اس میں رکھے تابوت سکینہ کی تلاش میں پوری دنیا کو کھود دینا چاہتے ہیں جبکہ ہم کو یہ بھی یاد نہیں کے اعراق میں کتنےانبیا اولیا کے مزارات پچھلے کچھ عرصہ میں بم لگا کر شہید کر دیئے گئے ہیں۔ وہ بھی اس داع ش نے کئے ہیں جن کے تانے بانتے اسرائیل سے ملتے ہیں۔ جن کے لیڈر ابوبکر بغدادی کا بیان تھا خدا ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیتا۔ اس تنظیم کی ساری توجہ ملمانوں کو مارنے میں ہی لگی رہی اور اب تک ہے۔ کبھی مکے اور مدینے پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور کبھی انتشار پھیلانے کے لئیے مسلمان ملکوں میں بم دھماکے کرتے ہیں۔